بسم الله الرحمن الرحیم الذین یبلغون رسالات الله و یخشونه ولایخشون أحدا إلا الله و کفی بالله حسیبا (احزاب ۳۹)وہ لوگ ا للہ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں اور دل میں اس کا خوف رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ،اوراللہ حساب کرنے کے لئے کافی ہے۔
چھ مہینوں سے زیادہ عرصہ ہوا کہ بحرین کے مظلوم عوام ـ جو دوسری استبداد زدہ اور آمریت زدہ قوموں کی مانند اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے قیام کرچکے ہیں ـ شدید ترین دباؤ، تشدد اور ایذاؤں، فتل و غارت، قید و بند اور روزگار سے بے دخلی کا سامنا کررہے ہیں؛ جبکہ بحرینی عوام کا انقلاب پرامن اور پرسکون انقلاب ہے اور بحرین کے انقلابی نوجوانوں نے اس عرصے میں مصر، لیبیا اور یمن کے انقلابیوں کے برعکس کسی قسم کے تشدد کا سہارا نہیں لیا ہے۔ بے شک جس چیز نے اس قیام و انقلاب کو آج تک تشدد سے دور رکھا ہے وہ "علمائے کرام" خاص طور پر "حضرت آیت اللہ شیخ عیسی قاسم" کی ہوشمندانہ قیادت، بالخصوص ان کے خطبات جمعہ سے عبارت تھی۔ انھوں نے اپنے خطبوں میں عوام کو تسلسل کے ساتھ پرسکون اور ہوشیار رہنے اور حکومت کو قانون و انصاف کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہے اور دے رہے ہیں۔ نیز وہ ملت بحرین کو انتشار و اشقاق اور تفرقہ و اختلاف کا شکار ہونے کے حوالے سے خبردار کررہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ملک میں فرقہ واریت اور مذہبی فتنہ پھیلانے کے سلسلے میں دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیں۔ لیکن آل خلیفہ حکومت علماء کی نصیحت پر عمل کو اپنا نصب العین قرار دینے اور عوام کو ان کے حقوق لوٹانے کی بجائے، آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کو دھمکی دینے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور وہ اس نہ تھکنے والے عالم و دانشمند اور اسوہ اخلاق پر قانون شکنی اور عدالتی عمل میں مداخلت کا الزام دھرتی ہے! اور انہیں نصیحت کرتی ہے کہ منبر رسول اللہ (ص) سے درست استفادہ کریں!! اور وہ بھی ایسے حال میں کہ آل خلیفہ کے دباؤ نیز آل سعود کے لشکر کے دباؤ کے سامنے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم اور بحرین کے دوسرے علماء کے پاس قلم و بیان کے پاس کسی قسم کا ہتھیار نہیں ہے اور وہ اس ہتھیار کو بھی صرف ملت بحرین کی خیر و خوبی اور اس ملک کی حکومت کی صلاح و فلاح کی راہ میں بروئے کار لارہے ہیں؛ اور یہ وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آل و سلم کی وصیت ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: «من اصبح و لم یهتم بأمور المسلمین فلیس بمسلم = جو شخص رات گذار دے اور مسلمانوں کی ضروریات پوری کرنے کا اہتمام نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے».لہذا عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی بحرین کے وزیر قانون کے دھمکی آمیز مراسلے کو ایک سازش اور شرارت آمیز سمجھتی ہے جس سے بحرین کے مظلوم عوام اور اس ملک کے علمائے صالح کے خلاف حکومت بحرین کے شیطانی منصوبوں کا پتہ ملتا ہے؛ جبکہ علمائے بحرین عوام کو پرسکون رہنے کی دعوت دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کررہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو عوام کے جائز مطالبات کے سامنے جوابدہ سمجھے اور ان کا جواب دے۔عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی ـ عالم اسلام کے سینکڑوں علماء اور مفکرین پر مشتمل بین الاقوامی فورم کی حیثیت سے ـ حکومت بحرین کو خبردار کرتی ہے کہ حضرت آیت اللہ شیخ عیسی قاسم اور دوسرے علمائے کرام کی نسبت کسی بھی قسم کی بے ادبی اور دھونس دباؤ علم و دین پر اس حکومت کی یلغار سمجھی جائے گی اور مختلف ممالک میں مسلم اقوام، علماء اور بیدار عوام اس کے سامنے خاموش تماشائی بن کر نہیں رہیں گے اور اس طرح کے کسی بھی اقدام سے حکومت بحرین کو دنیا اور خطے کی سطح پر ناگوار نتائج کا متحمل ہونا پڑے گا۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی24 رمضان المبارک 1432
حقیقت حال کیا ہے اور علمائے بحرین کی حمایت میں بیان دینے کی ضرورت کیوں پڑی؟ لنک دیکھ لیجئے:
جمعیۃ الوفاق الاسلامی: آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کو آل خلیفہ کی دھمکیاں کمزوروں کی منطق ہے